صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۱ - نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال
نیک ساتھی کی حدیث: اچھی صحبت خوشبو کی طرح فائدہ دیتی ہے
صحیح بخاری : ۲۱۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۱
حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ ، وَالْجَلِيسِ السَّوْءِ ، كَمَثَلِ صَاحِبِ الْمِسْكِ ، وَكِيرِ الْحَدَّادِ ، لَا يَعْدَمُكَ مِنْ صَاحِبِ الْمِسْكِ ، إِمَّا تَشْتَرِيهِ أَوْ تَجِدُ رِيحَهُ ، وَكِيرُ الْحَدَّادِ يُحْرِقُ بَدَنَكَ أَوْ ثَوْبَكَ ، أَوْ تَجِدُ مِنْهُ رِيحًا خَبِيثَةً " .
موسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ مشک بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک نہ ایک ضرور پا لو گے۔ یا تو مشک ہی خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ لیکن لوہار کی بھٹی یا تمہارے بدن اور کپڑے کو جھلسا دے گی ورنہ بدبو تو اس سے تم ضرور پا لو گے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال بہت آسان انداز میں سمجھائی گئی ہے۔ نیک ساتھی کو کستوری بیچنے والے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یعنی اگر آپ اس سے کچھ خریدیں تو فائدہ، اور نہ خریدیں تب بھی خوشبو مل جاتی ہے۔ اسی طرح اچھی صحبت انسان کے دل، سوچ اور عمل پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔ برے ساتھی کو لوہار کی بھٹی سے ملایا گیا ہے۔ وہاں سے یا کپڑے اور بدن جلنے کا اندیشہ ہے، یا کم از کم بدبو ضرور آتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دوست کا انتخاب معمولی بات نہیں۔ نیک دوست، اچھا ساتھی، بری صحبت اور اچھی صحبت جیسے موضوعات اس حدیث کا اصل پیغام ہیں۔ مسلمان کو ایسی مجلس اختیار کرنی چاہیے جہاں خیر، پاکیزگی اور بھلائی کا اثر ملے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک ساتھی سے انسان کو کسی نہ کسی صورت فائدہ پہنچتا ہے۔
- برا ساتھی انسان کو نقصان یا بری عادتوں کے قریب کر سکتا ہے۔
- دوستی اور مجلس کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔
- اچھی صحبت انسان کے ماحول اور مزاج پر اچھا اثر ڈالتی ہے۔
