صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۶ - مومن ایک بدن کی طرح
مومنوں کی مثال ایک جسم جیسی کیوں ہے؟
صحیح مسلم : ۶۵۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ ، مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى " .
سیدنا نعمان بن بشیر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومنوں کی مثال ان کی دوستی اور اتحاد اور شفقت میں ایسی ہے جیسے ایک بدن کی (یعنی سب مؤمن مل کر ایک قالب کی طرح ہیں) بدن میں جب کوئی عضو درد کرتا ہے تو سارا بدن اس میں شریک ہو جاتا ہ، ے نیند نہیں آتی، بخار آ جاتا ہے .“ (اسی طرح ایک مؤمن پر آفت آئے خصوصاً وہ آفت جو کافروں کی طرف سے پہنچے تو سب مومنوں کو بےچین ہونا چاہیے اور اس کا علاج کرنا چاہیے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۶ کا خلاصہ
یہ حدیث مومنوں کے باہمی تعلق کو بہت قریب کی مثال سے سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومنوں کی مثال ان کی دوستی، رحم اور شفقت میں ایک بدن جیسی ہے۔ جب بدن کا ایک عضو درد کرے تو پورا بدن بے چین ہو جاتا ہے، نیند اڑ جاتی ہے اور بخار آ جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کا دل دوسرے مومن کی تکلیف سے بے حس نہیں رہتا۔ حدیث میں مومنوں کی محبت، مومنوں کی شفقت، امت کا اتحاد اور ایک جسم والی حدیث جیسے سرچ کیے جانے والے موضوعات صاف ملتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص صرف جذباتی بات کرے، بلکہ متن کے مطابق کم از کم دل میں درد، توجہ اور بھائی چارے کا احساس ہونا چاہیے۔ مومن ایک بدن کی طرح ہیں؛ یہ جملہ امت کے تعلق کو بہت آسان بنا دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومنوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے لیے رحم اور شفقت ہونی چاہیے۔
- ایک مومن کی تکلیف دوسرے مومن کو بے پروا نہیں چھوڑنی چاہیے۔
- اتحاد صرف نام کا نہیں، احساس اور ہمدردی کا بھی ہے۔
- حدیث میں جسم کی مثال دے کر باہمی تعلق سمجھایا گیا ہے۔
