صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۵ - مومن مومن کے لیے عمارت کی طرح
مومن مومن کے لیے مضبوط عمارت جیسا ہے
صحیح مسلم : ۶۵۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۵۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، وَابْنُ إِدْرِيسَ ، وَأَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا " .
سیدنا ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤمن مؤمن کے لیے ایسا ہے جیسے عمارت میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کو تھامے رہتی ہے۔“ (اسی طرح ہر ایک مؤمن کو لازم ہے کہ دوسرے مؤمن کا مددگار رہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۵۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام اسلامی بھائی چارہ اور باہمی مدد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کو مومن کے لیے عمارت کی طرح بتایا، جس میں ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ مثال بہت آسان ہے۔ عمارت کی ایک اینٹ اکیلی کھڑی نہیں رہتی، بلکہ دوسری اینٹوں کے ساتھ مل کر مضبوط بنتی ہے۔ اسی طرح ایک مومن کو دوسرے مومن کے لیے سہارا بننا چاہیے۔ اس حدیث سے مومن کی مدد، اتحاد امت، مسلمان بھائی چارہ اور باہمی تعاون کا سبق ملتا ہے۔ متن میں صرف ایک مختصر مثال ہے، مگر اس میں روزمرہ زندگی کی بڑی بات موجود ہے: ایمان والے ایک دوسرے سے کٹ کر نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تھام کر چلتے ہیں۔ اس لیے جہاں مسلمان بھائی کو جائز مدد کی ضرورت ہو، وہاں بے رخی اس حدیث کے مزاج کے خلاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کو دوسرے مومن کے لیے سہارا بننا چاہیے۔
- مسلمانوں کا باہمی تعاون عمارت کی مضبوطی جیسا ہے۔
- اکیلا پن کمزور کرتا ہے، مل کر رہنا مضبوطی دیتا ہے۔
- حدیث میں بھائی چارے کو نہایت آسان مثال سے سمجھایا گیا ہے۔
