صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۶ - مومن کی باہمی قوت

المومن للمومن کالبنیان: مومن کی مدد کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا ، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ " .

ابوموسیٰ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ ایک عمارت کے حکم میں ہے کہ ایک کو دوسرے سے قوت پہنچتی ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کے اندر کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۶ کا خلاصہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومنوں کے تعلق کو عمارت کی مثال سے سمجھایا۔ فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر مثال بھی دکھائی۔ یہ مومن مومن کے لیے عمارت ہے حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان والوں کا رشتہ کمزور اور الگ الگ نہیں ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کو سہارا دینا، مدد کرنا اور مشکل میں ساتھ رہنا اس مثال سے سمجھ آتا ہے۔ عمارت کا ایک حصہ کمزور ہو تو پوری بناوٹ متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح مسلمان معاشرے میں ہر شخص دوسرے کے لیے قوت اور سہارا بن سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مومن کو دوسرے مومن کے لیے سہارا بننا چاہیے۔
  • مسلمانوں کی باہمی مدد کو مضبوط عمارت سے تشبیہ دی گئی ہے۔
  • دین میں اکیلا پن نہیں، ایک دوسرے سے جڑ کر رہنے کا سبق ہے۔
  • قوت صرف اپنی نہیں، بھائی کی مدد سے بھی بنتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں