صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۳ - ظالم اور مظلوم کی مدد

اپنے بھائی کی مدد کرو: ظالم اور مظلوم کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۳

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۳ کا خلاصہ

اس مختصر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بھائی کی مدد کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ بات بظاہر مختصر ہے، مگر اس کا رخ ظلم کے معاملے میں ذمہ داری کی طرف ہے۔ مظلوم کی مدد تو صاف سمجھ میں آتی ہے کہ اسے ظلم سے بچایا جائے۔ ظالم کی مدد کا مطلب اگلی روایت کے مطابق اسے ظلم سے روکنا ہے۔ اس لیے انصر اخاک ظالما او مظلوما حدیث کا اصل پیغام اندھی حمایت نہیں، بلکہ حق کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ مسلمان بھائی کی مدد تب بھی کرتا ہے جب وہ زیادتی کا شکار ہو، اور تب بھی جب وہ غلط کام کی طرف بڑھ رہا ہو، تاکہ اسے نقصان دہ عمل سے روکا جا سکے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مظلوم کی مدد کرنا ایمان والے رویے کا حصہ ہے۔
  • ظالم بھائی کی مدد یہ نہیں کہ اس کا ظلم بڑھایا جائے۔
  • حق کے معاملے میں رشتہ داری یا دوستی کو غلط رخ نہیں دینا چاہیے۔
  • مختصر بات بھی بڑے اخلاقی سبق دے سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں