صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۴ - ظلم روکنا ہی مدد ہے
ظالم کی مدد کیسے کریں؟ ظلم روکنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا ، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا ؟ قَالَ : تَأْخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہم مظلوم کی تو مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن ظالم کی مدد کس طرح کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو (یہی اس کی مدد ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی بات کو صاف کر دیتی ہے کہ ظالم کی مدد کیسے کی جائے۔ صحابہ نے پوچھا کہ مظلوم کی مدد تو سمجھ آتی ہے، مگر ظالم کی مدد کیسے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم سے اس کا ہاتھ پکڑ لو۔ یعنی جب کوئی شخص زیادتی کر رہا ہو تو اسے روکنا ہی اس کے حق میں بھلائی ہے۔ یہ ظلم روکنے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ سچی خیر خواہی صرف ساتھ دینے کا نام نہیں۔ کبھی بھائی، دوست یا رشتہ دار کو غلط کام سے روکنا بھی مدد ہے۔ اس میں نہ بے جا سختی کی بات ہے نہ دشمنی کی، بلکہ ظلم سے بچانے کی بات ہے تاکہ کسی کا حق پامال نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظالم کو ظلم سے روکنا اسی کی مدد ہے۔
- مظلوم کی مدد کے ساتھ ظالم کو بھی غلطی سے روکا جائے۔
- سچی نصرت حق کے ساتھ ہوتی ہے، غلط کام کے ساتھ نہیں۔
- کسی کا ہاتھ روکنا کبھی اس کے لیے خیر خواہی بن جاتا ہے۔
