صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۸ - مظلوم کی دعا
مظلوم کی بددعا سے ڈرو: دعا اور ظلم کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۴۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ الْمَكِّيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " اتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو جب (عامل بنا کر) یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا کہ اس (دعا) کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے ایک بڑی نصیحت فرمائی کہ مظلوم کی بددعا سے ڈرتے رہنا، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ یہ مظلوم کی دعا کی حدیث ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پر ظلم ہوا ہو، اس کی فریاد کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔ یہاں خاص طور پر ذمہ داری والے شخص کو تنبیہ ہے کہ لوگوں کے حقوق میں زیادتی نہ کرے۔ ظلم کبھی طاقت، عہدے، مال یا زبان سے بھی ہو سکتا ہے۔ حدیث صرف اتنا بتاتی ہے کہ مظلوم کی دعا اللہ تک پہنچنے سے روکنے والا پردہ نہیں۔ اس لیے دوسروں کے ساتھ انصاف اور احتیاط سے معاملہ کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مظلوم کی دعا کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- اختیار یا عہدہ ملنے پر لوگوں کے حقوق کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔
- ظلم سے بچنا صرف اخلاق نہیں، آخرت کی فکر بھی ہے۔
- حدیث میں مظلوم کی دعا اور اللہ کے درمیان پردہ نہ ہونے کا ذکر ہے۔
