صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۹ - حقوق العباد اور معافی
حقوق العباد کی حدیث: آج ہی معافی لے لو
صحیح بخاری : ۲۴۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۹
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَتْ لَهُ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيهِ مِنْ عِرْضِهِ أَوْ شَيْءٍ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهُ الْيَوْمَ قَبْلَ أَنْ لَا يَكُونَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ ، إِنْ كَانَ لَهُ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهِ ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهِ فَحُمِلَ عَلَيْهِ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ : إِنَّمَا سُمِّيَ الْمَقْبُرِيَّ لِأَنَّهُ كَانَ نَزَلَ نَاحِيَةَ الْمَقَابِرِ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ، وَسَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ : هُوَ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ ، وَهُوَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ وَاسْمُ أَبِي سَعِيدٍ كَيْسَانُ .
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ (سے ظلم کیا ہو) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرا لے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہو گا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہو گا تو اس کے (مظلوم) ساتھی کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ ابوعبدللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ اسماعیل بن ابی اویس نے کہا سعید مقبری کا نام مقبری اس لیے ہوا کہ قبرستان کے قریب انہوں نے قیام کیا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ سعید مقبری ہی بنی لیث کے غلام ہیں۔ پورا نام سعید بن ابی سعید ہے اور (ان کے والد) ابوسعید کا نام کیسان ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حقوق العباد کا بہت واضح سبق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی نے اپنے بھائی کی عزت یا کسی اور چیز میں ظلم کیا ہو تو آج ہی اس سے معافی لے لے، اس دن سے پہلے جب دینار اور درہم نہیں ہوں گے۔ قیامت کے دن اگر ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو ظلم کے بدلے وہ لے لیے جائیں گے، اور اگر نیکیاں نہ ہوں تو مظلوم کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی۔ یہ حق تلفی کی حدیث انسان کو بتاتی ہے کہ لوگوں کے حقوق صرف دنیا کا معاملہ نہیں۔ کسی کی عزت، مال یا حق کو نقصان پہنچا ہو تو معافی اور معاملہ صاف کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی عزت یا حق میں ظلم ہو تو معافی طلب کرنی چاہیے۔
- قیامت کے دن دینار اور درہم کام نہیں آئیں گے۔
- ظلم کے بدلے نیکیاں لی جا سکتی ہیں، جیسا حدیث میں آیا ہے۔
- لوگوں کے حقوق کو دنیا ہی میں صاف کرنا بہتر ہے۔
