صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۸ - فیصلہ اور حق تلفی

جھوٹا مقدمہ اور حق تلفی کی حدیث: فیصلہ کافی نہیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ أُمَّهَا أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ ، فَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ ، فَأَحْسِبُ أَنَّهُ صَدَقَ ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِذَلِكَ ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ ، فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ فَلْيَتْرُكْهَا " .

ام سلمہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے دروازے کے سامنے جھگڑے کی آواز سنی اور جھگڑا کرنے والوں کے پاس تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں۔ اس لیے جب میرے یہاں کوئی جھگڑا لے کر آتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ (فریقین میں سے) ایک فریق کی بحث دوسرے فریق سے عمدہ ہو، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سچا ہے۔ اور اس طرح میں اس کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہوں، لیکن اگر میں اس کو (اس کے ظاہری بیان پر بھروسہ کر کے) کسی مسلمان کا حق دلا دوں تو دوزخ کا ایک ٹکڑا اس کو دلا رہا ہوں، وہ لے لے یا چھوڑ دے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں فیصلے اور حق کے معاملے میں بہت بڑی تنبیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، میرے پاس جھگڑا لایا جاتا ہے، ممکن ہے ایک فریق دوسرے سے زیادہ اچھی بات کر لے، میں اسے سچا سمجھ کر فیصلہ دے دوں۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو مسلمان کا حق میرے فیصلے سے مل جائے، تو وہ آگ کا ٹکڑا ہے، چاہے لے یا چھوڑ دے۔ یہ جھوٹا مقدمہ اور حق تلفی کی حدیث ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف فیصلہ اپنے حق میں آ جانا کافی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ حق واقعی اپنا ہو۔ زبان کی مہارت سے کسی کا حق لینا آخرت میں خطرناک ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فیصلہ اپنے حق میں آ جائے تو بھی اصل حق دیکھنا چاہیے۔
  • اچھی بحث سے کسی کا حق لینا درست نہیں۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظاہری بیان کی بنیاد پر فیصلہ ہونے کا امکان بتایا۔
  • دوسرے مسلمان کا حق لینا آگ کے ٹکڑے سے تشبیہ دیا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں