صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۹ - نفاق کی نشانیاں
منافق کی چار نشانیاں: جھوٹ، وعدہ خلافی اور بدزبانی
صحیح بخاری : ۲۴۵۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۹
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا أَوْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْ أَرْبَعَةٍ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا : إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں بھی وہ ہوں گی، وہ منافق ہو گا۔ یا ان چار میں سے اگر ایک خصلت بھی اس میں ہے تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ جب بولے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، جب معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جب جھگڑے تو بد زبانی پر اتر آئے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں نفاق کی چار خصلتوں کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میں یہ چار باتیں ہوں وہ منافق ہوگا، اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، یہاں تک کہ اسے چھوڑ دے۔ وہ باتیں یہ ہیں: بولے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، معاہدہ کرے تو بے وفائی کرے، اور جھگڑے تو بدزبانی پر اتر آئے۔ یہ منافق کی نشانیوں کی حدیث ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان والے کے لیے زبان، وعدہ، معاہدہ اور جھگڑے کے وقت رویہ بہت اہم ہے۔ حدیث آدمی کو اپنی عادتیں بدلنے کی طرف بلاتی ہے، خاص طور پر جھوٹ اور بدزبانی سے بچنے کی طرف۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھوٹ بولنا نفاق کی خصلتوں میں سے ہے۔
- وعدہ پورا نہ کرنا ایمان والے رویے کے خلاف ہے۔
- معاہدے میں بے وفائی سے بچنا چاہیے۔
- جھگڑے کے وقت بدزبانی بھی خطرناک عادت ہے۔
