صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۰ - نفقہ اور گھریلو خرچ

بیوی بچوں کے خرچ کی حدیث: معروف طریقے سے لینا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۶۰

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ ، فَقَالَتْ " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مِسِّيكٌ ، فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا ؟ فَقَالَ : لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُطْعِمِيهِمْ بِالْمَعْرُوفِ " .

عائشہ روایت:

عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند رضی اللہ عنہا حاضر خدمت ہوئیں اور عرض کیا، یا رسول اللہ! ابوسفیان (جو ان کے شوہر ہیں وہ) بخیل ہیں۔ تو کیا اس میں کوئی حرج ہے اگر میں ان کے مال میں سے لے کر اپنے بال بچوں کو کھلایا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دستور کے مطابق ان کے مال سے لے کر کھلاؤ تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں گھر کے خرچ اور معروف طریقے کا ذکر ہے۔ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوسفیان بخیل ہیں، کیا میں ان کے مال میں سے اپنے بال بچوں کو کھلا سکتی ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دستور کے مطابق ان کے مال سے لے کر کھلاؤ تو حرج نہیں۔ یہ بیوی بچوں کے خرچ کی حدیث ہے۔ اس میں اصل بات “معروف” ہے، یعنی اتنا جو رواج اور ضرورت کے مطابق ہو۔ حدیث یہ نہیں کہ مال میں بے حد تصرف کیا جائے، بلکہ ایک خاص صورت میں بچوں کو کھلانے کی ضرورت کا جواب ہے۔ اس سے گھر کے نفقہ، ذمہ داری اور ضرورت کے مطابق خرچ کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شوہر پر گھر والوں کے خرچ کی ذمہ داری کا معاملہ سمجھ آتا ہے۔
  • ضرورت کے مطابق اور معروف طریقے سے خرچ لینے کی بات ہوئی ہے۔
  • حدیث میں بچوں کو کھلانے کی ضرورت کا جواب دیا گیا ہے۔
  • مال کے معاملے میں حد اور معروف طریقہ ملحوظ رہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں