صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۰ - زوجین کی صلح
زوجین کی صلح: بیوی کے حق چھوڑنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 ، قَالَتْ : " الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا ، فَتَقُولُ : أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ " ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ .
عائشہ روایت:
´ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے` (قرآن مجید کی آیت) «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا» ”اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت یا اس کے منہ پھیرنے کا خوف رکھتی ہو“ کے بارے میں فرمایا کہ کسی شخص کی بیوی ہے لیکن شوہر اس کے پاس زیادہ آتا جاتا نہیں بلکہ اسے جدا کرنا چاہتا ہے اس پر اس کی بیوی کہتی ہے کہ میں اپنا حق تمہیں معاف کرتی ہوں۔ اسی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے سورۃ النساء کی آیت کے بارے میں بتایا کہ جب کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے رخی یا جدا ہونے کا اندیشہ ہو، اور شوہر اسے زیادہ پسند نہ کرتا ہو، تو عورت اپنا کوئی حق چھوڑ کر معاملہ باقی رکھنے کی بات کر سکتی ہے۔ یہ بیوی کے حق اور صلح کی حدیث ہے۔ متن میں اصل بات یہ ہے کہ عورت نے کہا کہ میں اپنا حق تمہیں معاف کرتی ہوں، اور اسی بارے میں آیت نازل ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گھریلو معاملے میں کبھی صلح کے لیے باہمی رضامندی سے حق چھوڑنے کی صورت پیش آ سکتی ہے۔ اس حدیث میں زبردستی یا حق مارنے کی اجازت نہیں، بلکہ ایک خاص صورت کا ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھریلو اختلاف میں صلح کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
- بیوی کسی خاص صورت میں اپنا حق چھوڑنے کی بات کر سکتی ہے۔
- حدیث میں شوہر کی بے رخی یا جدا ہونے کے اندیشے کا ذکر ہے۔
- معاملہ باہمی رضامندی اور صلح کے انداز میں سمجھا گیا ہے۔
