صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۱ - مہمان کے حق کی حدیث
مہمان نوازی کی حدیث: مہمان کا حق کیسے ادا کیا جائے؟
صحیح بخاری : ۲۴۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۶۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَزِيدُ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : قُلْنَا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَا ، فَمَا تَرَى فِيهِ ؟ فَقَالَ : لَنَا إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأُمِرَ لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ " .
عقبہ بن عامر روایت:
ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ ہمیں مختلف ملک والوں کے پاس بھیجتے ہیں اور (بعض دفعہ) ہمیں ایسے لوگوں کے پاس جانا پڑتا ہے کہ وہ ہماری ضیافت تک نہیں کرتے۔ آپ کی ایسے مواقع پر کیا ہدایت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا، اگر تمہارا قیام کسی قبیلے میں ہو اور تم سے ایسا برتاؤ کیا جائے جو کسی مہمان کے لیے مناسب ہے تو تم اسے قبول کر لو، لیکن اگر وہ نہ کریں تو تم خود مہمانی کا حق ان سے وصول کر لو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مہمان نوازی اور مہمان کا حق ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم ہمیں مختلف علاقوں میں بھیجتے ہیں، مگر کبھی لوگ ضیافت نہیں کرتے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے صاف ہدایت دی کہ اگر میزبان مہمان کے لائق سلوک کرے تو اسے قبول کرو۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو مہمان اپنا حق لے سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں مہمان کا حق صرف اخلاقی بات نہیں، بلکہ ایک سنجیدہ ذمہ داری ہے۔ مہمان نوازی کی حدیث ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ اچھا برتاؤ ہو تو شکر کے ساتھ قبول کیا جائے، اور ناانصافی ہو تو حق کے دائرے میں بات کی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان کے ساتھ مناسب سلوک کرنا میزبان کی ذمہ داری ہے۔
- اگر جائز ضیافت ملے تو اسے قبول کرنا چاہیے۔
- حق نہ ملے تو معاملہ حد سے بڑھے بغیر اپنے حق تک رکھا جائے۔
- اسلامی آداب میں مہمان نوازی کو خاص مقام دیا گیا ہے۔
