صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۲ - سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ
سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ: اجتماعی معاملے میں مشاورت
صحیح بخاری : ۲۴۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۶۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : " حِينَ تَوَفَّى اللَّهُ نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْأَنْصَارَ اجْتَمَعُوا فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ ، فَقُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ : انْطَلِقْ بِنَا ، فَجِئْنَاهُمْ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، جب اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وفات دے دی تو انصار بنو ساعدہ کے «سقيفة» چوپال میں جمع ہوئے۔ میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ہمیں بھی وہیں لے چلئے۔ چنانچہ ہم انصار کے یہاں سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو وفات دی تو انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ہمیں بھی وہاں چلنا چاہیے، پھر وہ دونوں وہاں پہنچے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع اجتماعی مشاورت ہے۔ یہاں تفصیلی فیصلہ بیان نہیں ہوا، بلکہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ایک بڑا معاملہ سامنے آیا تو صحابہ جمع ہوئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر وہاں جانے کی کوشش کی۔ سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ سرچ کرنے والے عموماً خلافت، صحابہ کی مشاورت اور امت کے نظم کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑے اجتماعی معاملے میں ذمہ دار لوگوں کا جمع ہونا اہم ہے۔
- حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے جانا مناسب سمجھا۔
- اختلاف یا اہم خبر پر تنہا رائے کے بجائے مشاورت کا طریقہ سامنے آتا ہے۔
- حدیث میں اسی واقعے کے ابتدائی حصے کو بیان کیا گیا ہے، اس سے آگے کی تفصیل یہاں مذکور نہیں۔
