صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۷ - جھگڑالو پن سے بچاؤ

سخت جھگڑالو آدمی کی حدیث: ضد اور لڑائی سے بچیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۷

حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ أَبْغَضَ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ ناپسند وہ آدمی ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سخت جھگڑالو آدمی کے بارے میں تنبیہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے یہاں سب سے زیادہ ناپسند وہ آدمی ہے جو بہت جھگڑالو ہو۔ یہ جھگڑالو آدمی کی حدیث ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ حق بات کہنا چھوڑ دی جائے، بلکہ اس حدیث میں اس مزاج سے بچنے کی بات ہے جو ہر بات کو لڑائی بنا دے، بات کو کھینچے، ضد کرے اور معاملہ بگاڑ دے۔ دین ہمیں انصاف کے ساتھ نرم گفتگو بھی سکھاتا ہے۔ اگر کوئی اختلاف ہو تو اسے سچائی، صبر اور مناسب انداز سے حل کرنا چاہیے۔ مسلسل جھگڑا دلوں کو سخت کرتا ہے اور تعلقات کو خراب کر دیتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بلا وجہ جھگڑا کرنے والا مزاج ناپسندیدہ ہے۔
  • حق بات بھی اچھے انداز سے کہنی چاہیے۔
  • اختلاف کو ضد اور لڑائی میں بدلنا درست نہیں۔
  • زبان اور رویے میں نرمی تعلقات کو بچا سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں