صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۷ - ظلم کا انجام
ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے: ظلم کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۴۴۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۴۷
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الْمَاجِشُونُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۴۷ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت مختصر ہے مگر ظلم کے انجام کو سخت انداز میں یاد دلاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔ اس میں ظلم کی حدیث کا مرکزی سبق یہ ہے کہ کسی کا حق مارنا، زیادتی کرنا یا ناحق معاملہ کرنا معمولی بات نہیں۔ دنیا میں کبھی ظالم کو فائدہ محسوس ہو سکتا ہے، لیکن حدیث بتاتی ہے کہ قیامت کے دن یہی ظلم اندھیروں کی صورت میں سامنے آئے گا۔ اس لیے انسان کو اپنے قول، مال، زمین، عزت اور معاملات میں دوسروں کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔ حدیث میں تفصیل نہیں دی گئی، مگر اتنا صاف ہے کہ ظلم سے بچنا ایمان والے کے لیے بہت ضروری تنبیہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظلم قیامت کے دن اندھیروں کا سبب بتایا گیا ہے۔
- کسی بھی حق تلفی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- دنیا کا فائدہ آخرت کے نقصان کو ختم نہیں کرتا۔
- مسلمان کو اپنے معاملات میں دوسروں کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔
