صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۲ - زمین پر ظلم
زمین پر قبضہ کی حدیث: ناحق زمین لینے کا انجام
صحیح بخاری : ۲۴۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ " .
سعید بن زید روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی، اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں زمین پر ظلم سے قبضہ کرنے کے سخت انجام کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی کی زمین ظلم سے لے لی، قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ یہ زمین پر قبضہ کی حدیث ہے اور اس میں مال و جائیداد کے حق کو بہت سنجیدہ انداز میں بتایا گیا ہے۔ زمین کا تھوڑا یا زیادہ حصہ کسی کا حق ہو سکتا ہے، اس لیے ناپ تول، حد بندی اور ملکیت میں دیانت ضروری ہے۔ حدیث میں خاص طور پر ظلم سے زمین لینے کی بات ہے، اس لیے کسی کی جائیداد پر ناحق قبضہ یا دباؤ سے بچنا چاہیے۔ آخرت کا حساب صرف عبادات ہی نہیں، معاملات میں بھی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی زمین ظلم سے لینا سخت گناہ کا سبب ہے۔
- قیامت میں زمین کے ظلم کا حساب بتایا گیا ہے۔
- جائیداد کے معاملے میں دیانت اور انصاف ضروری ہے۔
- حدیث میں سات زمینوں کے طوق کا ذکر آیا ہے۔
