صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۴ - ناحق زمین کا انجام

ناحق زمین لینے کی حدیث: سات زمینوں تک دھنسایا جانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۴

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ " . قَالَ عَبْدِ اللهِ : هَذَا الْحَدِيثُ لَيْسَ بِخُرَاسَانَ فِي كِتَابِ ابْنُ الْمُبَارَكِ أَمْلاهُ عَلَيْهِم بِالْبَصْرَةِ .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ناحق کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی لے لیا، تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ یہ حدیث عبداللہ بن مبارک کی اس کتاب میں نہیں ہے جو خراسان میں تھی۔ بلکہ اس میں تھی جسے انہوں نے بصرہ میں اپنے شاگردوں کو املا کرایا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ناحق زمین لینے کا ایک اور سخت انجام بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے کسی زمین کا تھوڑا سا حصہ بھی ناحق لے لیا، قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔ یہ ناحق زمین لینے کی حدیث انسان کو خبردار کرتی ہے کہ جائیداد کے معاملے میں حق سے ذرا سا ہٹنا بھی خطرناک ہو سکتا ہے۔ زمین، حد، راستہ یا حصہ کسی کا حق ہو تو اسے دبانا یا چھپانا ظلم ہے۔ حدیث میں خاص طور پر “بغیر حق” کی بات ہے، اس لیے اصل معیار حق اور انصاف ہے۔ دنیا میں کاغذ، گواہی یا طاقت کام آ سکتی ہے، مگر قیامت کا حساب الگ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زمین کا تھوڑا حصہ بھی ناحق لینا درست نہیں۔
  • حق کے بغیر قبضہ قیامت کے سخت حساب کا سبب بتایا گیا ہے۔
  • جائیداد کے معاملے میں انصاف کو معیار بنانا چاہیے۔
  • حدیث میں سات زمینوں تک دھنسائے جانے کا ذکر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں