صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۵ - کھانے میں اجازت
دو کھجور ایک ساتھ کھانے کی حدیث: اجازت اور انصاف
صحیح بخاری : ۲۴۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۴۵۵
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ جَبَلَةَ ، كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْضِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَنَا سَنَةٌ ، فَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ ، فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا ، فَيَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ الْإِقْرَانِ ، إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ " .
جبلہ روایت:
ہم بعض اہل عراق کے ساتھ مدینہ میں مقیم تھے۔ وہاں ہمیں قحط میں مبتلا ہونا پڑا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کھانے کے لیے ہمارے پاس کھجور بھجوایا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب ہماری طرف سے گزرتے تو فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت) دو کھجور کو ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے مگر یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۴۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں اجتماعی کھانے کے ادب کا ذکر ہے۔ قحط کے دنوں میں لوگوں کو کھجوریں دی جاتی تھیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما انہیں یاد دلاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسروں کے ساتھ مل کر کھاتے وقت دو کھجوریں ایک ساتھ ملا کر کھانے سے منع فرمایا، مگر یہ کہ کوئی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ یہ دو کھجور ایک ساتھ کھانے کی حدیث ہے۔ اس کا سبق یہ ہے کہ مشترک کھانے میں اپنے حصے سے بڑھ کر لینے کی عادت دوسرے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اگر سب ساتھ کھا رہے ہوں تو انصاف، لحاظ اور اجازت ضروری ہے۔ معمولی کھجور کے معاملے میں بھی دوسروں کے حق کا خیال رکھا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشترک کھانے میں دوسروں کے حق کا خیال رکھنا چاہیے۔
- بغیر اجازت اپنے لیے زیادہ لینا مناسب نہیں۔
- اجازت سے معاملہ صاف اور دل مطمئن رہتے ہیں۔
- معمولی کھانے میں بھی انصاف کا ادب سکھایا گیا ہے۔
