صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۱ - مومن ایک جسم کی طرح ہیں
مومنوں کی محبت: ایک جسم جیسی مثال
صحیح بخاری : ۶۰۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرَى الْمُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ، إِذَا اشْتَكَى عُضْوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى " .
نعمان بن بشیر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم مومنوں کو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت و محبت کا معاملہ کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ لطف و نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے کہ جب اس کا کوئی ٹکڑا بھی تکلیف میں ہوتا ہے، تو سارا جسم تکلیف میں ہوتا ہے ایسا کہ نیند اڑ جاتی ہے اور جسم بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۱ کا خلاصہ
یہ حدیث مسلمانوں کے باہمی تعلق کو بہت آسان مثال سے سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مومنوں کو آپس کی رحمت، محبت اور نرم خوئی میں ایک جسم جیسا پاؤ گے۔ جب جسم کا کوئی ایک حصہ تکلیف میں ہوتا ہے تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے؛ نیند اڑ جاتی ہے اور بخار کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ مومن ایک دوسرے سے بے تعلق نہیں رہتے۔ کسی مسلمان کی تکلیف کو صرف اس کا ذاتی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مومنوں کی محبت اور رحمت کا مطلب یہ ہے کہ دل میں احساس ہو، نرمی ہو، اور دوسرے کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش ہو۔ یہی مومنوں کا باہمی مزاج بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومنوں کے درمیان رحمت اور محبت ہونی چاہیے۔
- کسی ایک کی تکلیف کو باقی لوگ بھی محسوس کریں۔
- نرمی اور ہمدردی مومنوں کی اجتماعی صفت ہے۔
- مسلمان معاشرہ بے حسی پر نہیں، باہمی احساس پر قائم ہونا چاہیے۔
