صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۲ - درخت لگانا صدقہ ہے

درخت لگانا صدقہ ہے: آسان نیکی کا پیغام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۲

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ غَرَسَ غَرْسًا فَأَكَلَ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کوئی مسلمان کسی درخت کا پودا لگاتا ہے اور اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے تو لگانے والے کے لیے وہ صدقہ ہوتا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں درخت لگانے کی نیکی کو بہت سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مسلمان اگر درخت کا پودا لگاتا ہے، پھر اس درخت سے کوئی انسان یا جانور کھاتا ہے، تو یہ لگانے والے کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں اصل بات یہ ہے کہ انسان کا کیا ہوا فائدہ مند کام، جب دوسروں تک نفع پہنچاتا ہے، تو وہ اجر کا سبب بنتا ہے۔ درخت لگانا صرف اپنے لیے سایہ یا پھل حاصل کرنا نہیں؛ اگر اس سے انسان یا جانور فائدہ اٹھائیں تو بھی نیکی لکھی جاتی ہے۔ اس لیے درخت لگانا، پودا لگانا اور ایسی چیز چھوڑنا جس سے مخلوق کو فائدہ ہو، صدقہ کے معنی میں آ سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • درخت لگانا اجر والا عمل ہے۔
  • اگر انسان یا جانور درخت سے کھائیں تو لگانے والے کے لیے صدقہ ہے۔
  • نفع دینے والا کام دینی لحاظ سے قیمتی ہے۔
  • مسلمان کو ایسی نیکی کرنی چاہیے جس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں