صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۰ - اللہ کی رحمت کو تنگ نہ کرو
اللہ کی رحمت وسیع ہے: دعا میں تنگ دلی نہیں
صحیح بخاری : ۶۰۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۰
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةٍ وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ : اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ : " لَقَدْ حَجَّرْتَ وَاسِعًا ، يُرِيدُ رَحْمَةَ اللَّهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز پڑھتے ہی ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) پر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا آپ کی مراد اللہ کی رحمت سے تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں دعا، رحمت اور دل کی وسعت کا سبق ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ نماز ہی میں ایک دیہاتی نے دعا کی کہ اے اللہ! مجھ پر رحم کر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کر۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو اس دیہاتی سے فرمایا کہ تم نے ایک وسیع چیز کو تنگ کر دیا۔ حدیث کے الفاظ کے مطابق مراد اللہ کی رحمت تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت کو اپنے اور چند لوگوں تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ دعا میں خیر، رحم اور بھلائی کے لیے دل کشادہ ہونا چاہیے، خاص طور پر جب بات اللہ کی رحمت کی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی رحمت وسیع ہے، اسے چند لوگوں تک محدود نہ سمجھا جائے۔
- دعا میں تنگ دلی مناسب نہیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بات کی اصلاح نرم انداز میں کی۔
- رحمت کی دعا کرتے وقت دوسروں کے لیے بھی خیر چاہنی چاہیے۔
