صحیح بخاری حدیث ۵۶۶۵ - سر کی تکلیف اور فدیہ
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث: تکلیف پر فدیہ کا حکم
صحیح بخاری : ۵۶۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۶۶۵
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " مَرَّ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ ، فَقَالَ : أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَهُ ، ثُمَّ أَمَرَنِي بِالْفِدَاءِ " .
کعب بن عجرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب سے گزرے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ سلگا رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے سر کی جوویں تمہیں تکلیف پہنچاتی ہیں۔ میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجام بلوایا اور اس نے میرا سر مونڈ دیا اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فدیہ ادا کر دینے کا حکم فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۵۶۶۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم ان کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دیتی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے حجام کو بلایا، اس نے ان کا سر مونڈ دیا، اور اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں فدیہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع سر کی تکلیف، جوؤں کی وجہ سے پریشانی، سر منڈوانا اور فدیہ ہے۔ متن سے یہی بات ثابت ہے کہ جب واقعی تکلیف موجود تھی تو نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے تکلیف کا حال پوچھا، پھر عملی حل کروایا، اور بعد میں فدیہ کا حکم دیا۔ اس لیے شرح میں غیر ضروری تفصیلات شامل نہیں کرنی چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے پہلے تکلیف کا سبب پوچھا، پھر حل بتایا۔
- سر کی جوؤں سے تکلیف ہو تو اس خاص واقعہ میں سر منڈوانے کا ذکر آیا ہے۔
- سر منڈوانے کے بعد فدیہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
- دینی حکم میں مریض یا تکلیف زدہ شخص کی حالت دیکھی جاتی ہے۔
