صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۸ - احرام میں تکلیف کا فدیہ
احرام میں فدیہ کی حدیث: روزہ، صدقہ یا قربانی
صحیح بخاری : ۶۷۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ : أَتَيْتُهُ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ادْنُ " ، فَدَنَوْتُ فَقَالَ : " أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ ، أَوْ صَدَقَةٍ ، أَوْ نُسُكٍ " ، وَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، قَالَ : صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ وَالنُّسُكُ : شَاةٌ وَالْمَسَاكِينُ : سِتَّةٌ .
کعب بن عجرہ روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہو جا، میں قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے سر کے کپڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا، جی ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر روزے صدقہ یا قربانی کا فدیہ دیدے۔ اور مجھے ابن عون نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ روزے تین دن کے ہوں گے اور قربانی ایک بکری کی اور (کھانے کے لیے) چھ مسکین ہوں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع احرام میں تکلیف اور فدیہ ہے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قریب بلایا اور پوچھا کہ کیا سر کے کیڑے تکلیف دے رہے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ کی تین صورتیں بیان فرمائیں: روزے، صدقہ یا قربانی۔ روایت میں آگے وضاحت ہے کہ روزے تین دن کے ہوں گے، قربانی ایک بکری کی ہو گی، اور کھانا چھ مسکینوں کے لیے ہو گا۔ اس حدیث میں فدیہ کی حدیث، احرام میں سر کی تکلیف، حج کا فدیہ اور مسکینوں کو کھانا جیسے اہم الفاظ قدرتی طور پر آتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ عبادت میں تکلیف پیش آئے تو شریعت نے اس کے لیے واضح راستہ بتایا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں حقیقی تکلیف ہو تو فدیہ کا حکم موجود ہے۔
- فدیہ کی صورتیں حدیث میں روزہ، صدقہ یا قربانی کے طور پر بیان ہوئیں۔
- مسئلہ پیش آئے تو خود فیصلہ کرنے کے بجائے دینی رہنمائی لی جائے۔
