صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۹ - رمضان روزے کا کفارہ

رمضان کے روزے کا کفارہ: غلطی کے بعد رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۰۹

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْ فِيهِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : هَلَكْتُ ، قَالَ : " وَمَا شَأْنُكَ ؟ " ، قَالَ : وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي فِي رَمَضَانَ ، قَالَ : " تَسْتَطِيعُ تُعْتِقُ رَقَبَةً ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ " ، قَالَ : لَا ، قَالَ : " اجْلِسْ " ، فَجَلَسَ ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ ، وَالْعَرَقُ : الْمِكْتَلُ الضَّخْمُ ، قَالَ : " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " ، قَالَ : أَعَلَى أَفْقَرَ مِنَّا ؟ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، قَالَ : " أَطْعِمْهُ عِيَالَكَ " .

ابوہریرہ روایت:

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا، میں تو تباہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ عرض کیا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا دو مہینے متواتر روزے رکھ سکتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیٹھ جاؤ وہ صاحب بیٹھ گئے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ( «عرق» ایک بڑا پیمانہ ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے جا اور اسے پورا صدقہ کر دے۔ انہوں نے پوچھا، کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر (صدقہ کر دوں)؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور آپ کے سامنے کے دانت مبارک دکھائی دینے لگے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں ہی کو کھلا دینا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع رمضان کے روزے کا کفارہ ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ میں تباہ ہو گیا، کیونکہ اس نے رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ترتیب سے پوچھا: کیا غلام آزاد کر سکتے ہو؟ کیا دو مہینے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ وہ ہر بار اپنی کمزوری بتاتا رہا۔ پھر کھجوروں کا ٹوکرا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صدقہ کرنے کو کہا۔ جب اس نے بتایا کہ اس کے گھر والے ہی زیادہ محتاج ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بچوں کو کھلا دو۔ اس حدیث میں رمضان کفارہ، دو مہینے مسلسل روزے، ساٹھ مسکینوں کو کھانا، اور روزہ ٹوٹنے کا کفارہ جیسے موضوعات آتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رمضان کے روزے کی حرمت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • غلطی ہو جائے تو مسئلہ چھپانے کے بجائے درست رہنمائی لی جائے۔
  • کفارہ استطاعت کے سوال کے ساتھ بیان کیا گیا، ہر شخص کی حالت دیکھی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں