صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۸ - کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی تکلیف کا بیان
فدیہ کی روایت: کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کا وہی واقعہ
صحیح بخاری : ۱۸۱۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۸
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ ، مِثْلَهُ .
کعب بن عجرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو جوئیں ان کے چہرہ پر گر رہی تھی، پھر یہی حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۸ کا خلاصہ
یہ روایت حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے اسی واقعے کی ایک مختصر نقل ہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا، اور ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں۔ پھر راوی نے بتایا کہ آگے وہی حدیث ہے جو پہلے بیان ہو چکی۔ اس روایت کا اصل موضوع فدیہ اور احرام کی حالت میں سر کی تکلیف ہے، مگر یہاں تفصیل کم ہے۔ اس لیے اس سے نئی بات نکالنے کے بجائے اسی واقعے کی تائید سمجھنی چاہیے۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی فدیہ والی حدیث میں تکلیف، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی توجہ، سر منڈانے کی اجازت اور فدیہ کے اختیارات بیان ہوئے ہیں۔ یہ مختصر روایت اسی سلسلے کو مضبوط کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے واقعے کی تائید کرتی ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تکلیف کو دیکھا۔
- جوئیں چہرے پر گرنے کا ذکر اس تکلیف کی شدت بتاتا ہے۔
- مختصر روایت کو پہلے بیان شدہ تفصیل کے ساتھ سمجھا جاتا ہے۔
