صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۹ - حج میں رفث اور فسق سے بچنے کی فضیلت

حج کی فضیلت: رفث اور فسق سے بچنے والا کیسا لوٹتا ہے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۹

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ ، فَلَمْ يَرْفُثْ ، وَلَمْ يَفْسُقْ ، رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اس گھر (کعبہ) کا حج کیا اور اس میں نہ «رفث» یعنی شہوت کی بات منہ سے نکالی اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۹ کا خلاصہ

یہ حدیث حج کی فضیلت اور حج کے ادب کو بہت جامع انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اس گھر یعنی کعبہ کا حج کیا، پھر نہ رفث کیا یعنی شہوت کی بات زبان سے نکالی، اور نہ کوئی گناہ کا کام کیا، تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ حج صرف سفر اور اعمال کا نام نہیں، بلکہ زبان، نیت، کردار اور گناہ سے بچنے کا بھی امتحان ہے۔ حج کی حدیث میں رفث اور فسق سے بچنے پر خاص زور ہے۔ اس لیے حاجی کو اپنے الفاظ، رویے اور عمل کا خیال رکھنا چاہیے۔ حدیث میں جو بشارت آئی ہے وہ اسی حج کے ساتھ جڑی ہے جس میں ان باتوں سے پرہیز کیا گیا ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج میں فحش اور شہوت والی باتوں سے بچنے کی ہدایت ہے۔
  • حج کے دوران گناہ کے کاموں سے پرہیز ضروری ہے۔
  • حدیث میں ایسے حج کے لیے بڑی خوشخبری بیان ہوئی ہے۔
  • حج میں ظاہری اعمال کے ساتھ اخلاق کا خیال بھی ضروری ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں