صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۱ - حج مبرور اور گناہوں سے بچنے کی حدیث

حج مبرور کی حدیث: اللہ کے لیے حج اور گناہوں سے بچنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۲۱

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ حَجَّ لِلَّهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے لیے اس شان کے ساتھ حج کیا کہ نہ کوئی فحش بات ہوئی اور نہ کوئی گناہ تو وہ اس دن کی طرح واپس ہو گا جیسے اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حج مبرور اور حج کے دوران زبان و عمل کی حفاظت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو شخص اللہ کے لیے حج کرے، پھر نہ فحش بات کرے اور نہ گناہ میں پڑے، وہ اس دن کی طرح واپس ہوتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔ یہاں حج کا مقصد صرف سفر یا رسم ادا کرنا نہیں، بلکہ اللہ کے لیے اخلاص کے ساتھ عبادت کرنا ہے۔ اس حدیث میں حاجی کو خاص طور پر دو باتوں سے بچنے کی نصیحت ملتی ہے: فحش گفتگو اور فسق یعنی گناہ۔ اس لیے حج کی قبولیت کے لیے ظاہری اعمال کے ساتھ زبان، نظر، اخلاق اور رویہ بھی سنبھالنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس حدیث کو حج مبرور کی فضیلت، حج کی حدیث، اور گناہوں کی معافی والی حدیث کے طور پر تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حج اللہ کے لیے ہو، دکھاوے یا نام کے لیے نہیں۔
  • حج کے دوران فحش بات اور گناہ سے خاص طور پر بچنا چاہیے۔
  • حاجی کے لیے زبان اور عمل کی حفاظت حج کے آداب میں سے ہے۔
  • حدیث کے الفاظ کے مطابق ایسا حج کرنے والا پاکیزہ واپسی پاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں