صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۲ - عمرہ کے احرام کی جگہیں
عمرہ کے احرام کی جگہ: میقات کی حدیث اردو میں
صحیح بخاری : ۱۵۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۲۲
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ وَلَهُ فُسْطَاطٌ وَسُرَادِقٌ ، فَسَأَلْتُهُ مِنْ أَيْنَ يَجُوزُ أَنْ أَعْتَمِرَ ؟ قَالَ : " فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ , الْجُحْفَةَ " .
زید بن جبیر روایت:
وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے۔ وہاں قنات کے ساتھ شامیانہ لگا ہوا تھا (زید بن جبیر نے کہا کہ) میں نے پوچھا کہ کس جگہ سے عمرہ کا احرام باندھنا چاہئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن، مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عمرہ کا احرام اور میقات ہے۔ زید بن جبیر نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ عمرہ کا احرام کہاں سے باندھنا چاہیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن، مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر کیا ہے۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ احرام باندھنے کی جگہ ہر علاقے کے لیے الگ مقرر کی گئی۔ اس میں صرف تین جگہوں کا ذکر ہے، اس لیے اسی متن کے اندر رہتے ہوئے بات کی جائے تو نجد، مدینہ اور شام کے میقات سامنے آتے ہیں۔ لوگ اس روایت کو عمرہ کا میقات، احرام کہاں سے باندھیں، ذوالحلیفہ کی حدیث، قرن المنازل کی حدیث، اور حجفہ میقات کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمرہ کے لیے احرام باندھنے کی جگہ شریعت میں مقرر ہے۔
- مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کا ذکر آیا ہے۔
- نجد والوں کے لیے قرن اور شام والوں کے لیے حجفہ مقرر ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھنے کے لیے صحابہ کرام سے سوال کیا جاتا تھا۔
