صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۶ - حج اور عمرہ کے لیے احرام
حج اور عمرہ کا میقات: ہر راستے کے احرام کی جگہ
صحیح بخاری : ۱۵۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۲۶
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمُهَلُّهُ مِنْ أَهْلِهِ ، وَكَذَاكَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج اور عمرہ کے لیے میقات ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل، اور یمن والوں کے لیے یلملم مقرر فرمایا۔ پھر حدیث میں بتایا گیا کہ یہ میقات انہی علاقوں کے لوگوں کے لیے بھی ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان راستوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں، ان کا احرام ان کے گھر یا رہنے کی جگہ سے ہے۔ مکہ والوں کے بارے میں حدیث میں آیا کہ وہ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔ یہ روایت میقات کے مسئلے کو صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج اور عمرہ کا ارادہ رکھنے والے میقات کا خیال رکھیں۔
- میقات صرف علاقے والوں کے لیے نہیں، اس راستے سے آنے والوں کے لیے بھی ہے۔
- میقات کے اندر رہنے والے اپنی جگہ سے احرام باندھتے ہیں۔
- مکہ والوں کا احرام مکہ ہی سے بیان ہوا ہے۔
