صحیح بخاری حدیث ۱۵۳۰ - حج و عمرہ کے میقات کی تفصیل
حج و عمرہ کے میقات کی تفصیل: احرام کہاں سے باندھیں؟
صحیح بخاری : ۱۵۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۳۰
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ هُنَّ لِأَهْلِهِنَّ ، وَلِكُلِّ آتٍ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِهِمْ مِمَّنْ أَرَادَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَمِنْ حَيْثُ أَنْشَأَ حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ مِنْ مَكَّةَ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ ان ملکوں کے باشندوں کے میقات ہیں اور تمام ان دوسرے مسلمانوں کے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر آئیں اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں تو (وہ احرام وہیں سے باندھیں) جہاں سے سفر شروع کریں تاآنکہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج و عمرہ کے میقات کی تفصیل ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل، اور یمن والوں کے لیے یلملم مقرر فرمایا۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ یہ مقامات ان علاقوں کے باشندوں کے لیے ہیں، اور ہر اس آنے والے کے لیے بھی ہیں جو ان مقامات سے گزرے اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو۔ جو لوگ ان میقاتوں کے اندر رہتے ہیں، وہ جہاں سے سفر شروع کریں وہیں سے احرام باندھیں۔ مکہ والوں کے بارے میں فرمایا کہ وہ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔ یہ روایت احرام کہاں سے باندھیں، میقات حج، اور میقات عمرہ کے سوال کا صاف جواب دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کے لیے مقرر مقامات کا لحاظ ضروری ہے۔
- حج یا عمرہ کا ارادہ رکھنے والے راستے کے میقات سے احرام باندھتے ہیں۔
- میقات کے اندر رہنے والے اپنے آغاز سفر سے احرام باندھتے ہیں۔
- مکہ والوں کا احرام مکہ ہی سے بیان ہوا ہے۔
