صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۹ - میقات اور احرام کا حکم
میقات اور احرام کا حکم: حج و عمرہ کے مسافروں کے لیے رہنمائی
صحیح بخاری : ۱۵۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۲۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ ، وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ ، وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا ، فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ مِمَّنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ ، فَمَنْ كَانَ دُونَهُنَّ فَمِنْ أَهْلِهِ حَتَّى إِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يُهِلُّونَ مِنْهَا " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ میقات ٹھہرایا اور شام والوں کے لیے حجفہ، یمن والوں کے لیے یلملم اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل۔ یہ ان ملکوں کے لوگوں کے لیے ہیں اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزریں۔ اور حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ تو وہ اپنے شہروں سے احرام باندھیں، تاآنکہ مکہ کے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع میقات اور احرام کا حکم ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے حجفہ، یمن والوں کے لیے یلملم، اور نجد والوں کے لیے قرن المنازل مقرر فرمایا۔ پھر بتایا گیا کہ یہ مقامات ان علاقوں کے لوگوں کے لیے بھی ہیں اور ان سب لوگوں کے لیے بھی جو ان علاقوں سے گزریں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں، وہ اپنے شہروں سے احرام باندھیں۔ مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں۔ اس روایت میں میقات کا اصول بہت واضح ہے، اس لیے یہ حدیث احرام کی جگہ، عمرہ کا میقات، حج کا میقات، اور مکہ والوں کے احرام کے نام سے بہت تلاش کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج یا عمرہ کا ارادہ ہو تو میقات کا خیال رکھا جائے۔
- میقات اس راستے سے گزرنے والے دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے۔
- میقات کے اندر رہنے والے اپنے شہر یا جگہ سے احرام باندھتے ہیں۔
- مکہ والوں کے لیے مکہ ہی سے احرام کا بیان ہے۔
