صحیح بخاری حدیث ۱۵۳۱ - ذات عرق کا میقات
ذات عرق کا میقات: بصرہ اور کوفہ والوں کے لیے آسانی
صحیح بخاری : ۱۵۳۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۳۱
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : لَمَّا فُتِحَ هَذَانِ الْمِصْرَانِ أَتَوْا عُمَرَ ، فَقَالُوا : " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّ لِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَهُوَ جَوْرٌ عَنْ طَرِيقِنَا ، وَإِنَّا إِنْ أَرَدْنَا قَرْنًا شَقَّ عَلَيْنَا ، قَالَ : فَانْظُرُوا حَذْوَهَا مِنْ طَرِيقِكُمْ ، فَحَدَّ لَهُمْ ذَاتَ عِرْقٍ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
جب یہ دو شہر (بصرہ اور کوفہ) فتح ہوئے تو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا کہ یا امیرالمؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کے لیے احرام باندھنے کی جگہ قرن المنازل قرار دی ہے اور ہمارا راستہ ادھر سے نہیں ہے، اگر ہم قرن کی طرف جائیں تو ہمارے لیے بڑی دشواری ہو گی۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر تم لوگ اپنے راستے میں اس کے برابر کوئی جگہ تجویز کر لو۔ چنانچہ ان کے لیے ذات عرق کی تعیین کر دی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۵۳۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ذات عرق اور میقات کی تعیین ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب بصرہ اور کوفہ فتح ہوئے تو لوگ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد والوں کے لیے قرن المنازل مقرر کیا ہے، مگر ہمارا راستہ وہاں سے نہیں گزرتا۔ اگر ہم قرن کی طرف جائیں تو ہمیں دشواری ہوگی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنے راستے میں اس کے برابر کوئی جگہ دیکھ لو۔ پھر ان کے لیے ذات عرق مقرر کی گئی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے اپنے راستے کی مشکل پیش کی، اور جواب میں ان کے راستے کے برابر مقام مقرر کیا گیا۔ لوگ اس حدیث کو ذات عرق میقات، بصرہ کوفہ کا میقات، اور عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسئلہ پیش آئے تو اہل علم اور ذمہ دار لوگوں سے رجوع کیا جاتا ہے۔
- بصرہ اور کوفہ والوں کے راستے کی دشواری کا خیال رکھا گیا۔
- قرن المنازل کے برابر راستے میں مقام مقرر کیا گیا۔
- ذات عرق کا ذکر بصرہ اور کوفہ والوں کے لیے آیا ہے۔
