صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۷ - نبی صلى الله عليه وسلم نے میقات مقرر کیے

نبی صلى الله عليه وسلم نے میقات مقرر کیے: حج و عمرہ کے احرام کا اصول

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۵۲۷

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَفِظْنَاهُ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ وَقَّتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

´ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے زہری سے یہ حدیث یاد رکھی، ان سے سالم نے کہا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا تھا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات متعین کر دیئے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۵۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع میقات کا مقرر ہونا ہے۔ روایت مختصر ہے، مگر اس میں بنیادی بات بیان ہوئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میقات متعین فرما دیے تھے۔ اس متن میں تفصیل نہیں آئی کہ کون سا مقام کس علاقے کے لیے ہے، لیکن اسی باب کی دوسری روایات میں ذوالحلیفہ، حجفہ، قرن المنازل اور یلملم جیسے نام آتے ہیں۔ اس خاص حدیث سے اصل بات یہ سامنے آتی ہے کہ حج اور عمرہ کا احرام اپنی مرضی سے کسی بھی جگہ نہیں باندھا جاتا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مقرر کیے گئے مقامات کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ لوگ اس روایت کو میقات کی حدیث، احرام کے مقامات، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے میقات مقرر کیے کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ ہیں۔
  • احرام کے معاملے میں مقرر حدوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • مختصر روایت بھی دینی مسئلے کی اصل بنیاد بتا سکتی ہے۔
  • حج و عمرہ کے احکام میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت اصل ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں