صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۴ - احرام میں سر منڈانے کا فدیہ

احرام میں فدیہ: سر کی تکلیف ہو تو کیا اختیار ہے؟

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَعَلَّكَ آذَاكَ هَوَامُّكَ ؟ قَالَ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :احْلِقْ رَأْسَكَ ، وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ، أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ " .

کعب بن عجرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا، غالباً جوؤں سے تم کو تکلیف ہے، انہوں نے کہا کہ جی ہاں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنا سر منڈا لے اور تین دن کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک بکری ذبح کر۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۴ کا خلاصہ

یہ حدیث حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ شاید سر کی جوؤں نے تمہیں تکلیف دی ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنا سر منڈا لو، اور فدیہ کے طور پر تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو۔ اس حدیث کا موضوع احرام میں سر کی تکلیف اور فدیہ ہے۔ روایت میں تین آسان اختیار بیان ہوئے ہیں، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ تکلیف کی حالت میں حکم کے اندر ایک سہولت رکھی گئی، مگر اس کے ساتھ فدیہ بھی مقرر کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سر کی تکلیف کے سبب سر منڈانے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔
  • فدیہ کے تین اختیار دیے گئے: روزہ، کھانا، یا بکری۔
  • تکلیف کے باوجود دینی حکم کو نظر انداز نہیں کیا گیا بلکہ فدیہ رکھا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کی تکلیف کا خیال فرمایا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں