صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۳ - عمرہ کے ساتھ حج شامل کرنا

حج اور عمرہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک ساتھ احرام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۳

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ ، إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ ، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ نَظَرَ فِي أَمْرِهِ ، فَقَالَ : مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ ، فَالْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالَ : مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ ، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا ، وَرَأَى أَنَّ ذَلِكَ مُجْزِيًا عَنْهُ وَأَهْدَى " .

نافع روایت:

فتنہ کے زمانہ میں جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مکہ کے ارادے سے چلے تو فرمایا کہ اگر مجھے بیت اللہ تک پہنچے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو (حدیبیہ کے سال) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ آپ نے عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔پھر آپ نے کچھ غور کر کے فرمایا کہ عمرہ اور حج تو ایک ہی ہے، اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے بھی یہی فرمایا کہ یہ دونوں تو ایک ہی ہیں۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ عمرہ کے ساتھ اب حج بھی اپنے لیے میں نے واجب قرار دیے لیا ہے پھر (مکہ پہنچ کر) آپ نے دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا۔ آپ کا خیال تھا کہ یہ کافی ہے اور آپ قربانی کا جانور بھی ساتھ لے گئے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۳ کا خلاصہ

یہ روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ایک عمل کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ وہ فتنہ کے زمانے میں مکہ کے ارادے سے نکلے اور فرمایا کہ اگر بیت اللہ سے روک دیا گیا تو ہم وہی کریں گے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ پھر انہوں نے غور کیا اور فرمایا کہ حج اور عمرہ کا معاملہ ایک ہی ہے، اور اپنے ساتھیوں کو گواہ بنا کر عمرہ کے ساتھ حج بھی اپنے اوپر واجب کر لیا۔ پھر دونوں کے لیے ایک ہی طواف کیا اور قربانی ساتھ لے گئے۔ یہ حدیث حج قران، سنت کی پیروی اور دینی معاملے میں سوچ سمجھ کر عمل کرنے کا انداز دکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے عمل کو حدیبیہ کی سنت سے جوڑا۔
  • انہوں نے عمرہ کے ساتھ حج کو بھی شامل کیا۔
  • دونوں کے لیے ایک طواف کیا گیا۔
  • قربانی کا جانور ساتھ لے جانے کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں