صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۰ - حج سے روک دیے جانے کی صورت میں سنت
حج سے روک دیے جائیں تو سنت کافی ہے
صحیح بخاری : ۱۸۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۰
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، قَالَ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ " إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى يَحُجَّ عَامًا قَابِلًا ، فَيُهْدِي أَوْ يَصُومُ إِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا " ، وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، نَحْوَهُ .
سالم روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں ہے کہ اگر کسی کو حج سے روک دیا جائے، ہو سکے تو وہ بیت اللہ کا طواف کر لے اور صفا اور مروہ کی سعی، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ وہ دوسرے سال حج کر لے پھر قربانی کرے، اگر قربانی نہ ملے تو روزہ رکھے، عبداللہ سے روایت ہے کہ ہمیں معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی پہلی روایت کی طرح بیان کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۰ کا خلاصہ
یہ روایت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کو بیان کرتی ہے۔ وہ فرماتے تھے کہ کیا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی نہیں؟ پھر انہوں نے بتایا کہ اگر کسی کو حج سے روک دیا جائے، اور ہو سکے تو وہ بیت اللہ کا طواف کرے، صفا اور مروہ کی سعی کرے، پھر ہر چیز سے حلال ہو جائے، یہاں تک کہ دوسرے سال حج کرے۔ پھر قربانی کرے، اور اگر قربانی نہ ملے تو روزہ رکھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حج سے رکاوٹ یعنی احصار حج ہے۔ اس میں ایک ترتیب بیان ہوئی ہے، لیکن اسے اسی متن کے مطابق سمجھنا چاہیے۔ روایت کا انداز ہمیں بتاتا ہے کہ مشکل دینی معاملے میں بھی اصل سہارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نہ کہ اپنی پسند کا راستہ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے سنت کو کافی قرار دیا۔
- حج سے روکے جانے کی صورت میں طواف اور سعی کا ذکر آیا ہے، جب ممکن ہو۔
- قربانی نہ ملنے کی حالت میں روزے کا ذکر ہے۔
- دینی مشکل میں سنت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔
