صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۱ - سر منڈانے سے پہلے قربانی
حدیبیہ میں عمل کی ترتیب: پہلے قربانی پھر سر منڈانا
صحیح بخاری : ۱۸۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۱
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ " .
مسور روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قربانی سر منڈوانے سے پہلے کی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب کو بھی اسی کا حکم دیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۱ کا خلاصہ
یہ حدیث صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی ایک واضح ترتیب بیان کرتی ہے۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈانے سے پہلے قربانی کی، اور صحابہ کرام کو بھی اسی کا حکم دیا۔ اس حدیث کا اصل موضوع قربانی اور سر منڈانے کی ترتیب ہے۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی بات سمجھنی چاہیے جو متن میں موجود ہے: حدیبیہ کے موقع پر قربانی پہلے کی گئی، پھر سر منڈانے کا مرحلہ آیا۔ حج و عمرہ کی احادیث میں ترتیب کا خیال بہت اہم ہوتا ہے، مگر یہاں خاص طور پر حدیبیہ کا ذکر ہے۔ اس لیے اس حدیث کو حدیبیہ کے عمل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیبیہ کے موقع پر قربانی سر منڈانے سے پہلے کی گئی۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھی اسی کا حکم دیا۔
- دینی عمل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب کی پیروی کی جاتی ہے۔
