صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۲ - حدیبیہ میں قربانی اور سر منڈانا
حدیبیہ کی سنت: رکاوٹ پر قربانی اور سر منڈانا
صحیح بخاری : ۱۸۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۱۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيِّ ، قَالَ : وَحَدَّثَ نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ، وَسَالِمًا ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَمِرِينَ ، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ دُونَ الْبَيْتِ ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُدْنَهُ ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ " .
نافع روایت:
عبداللہ اور سالم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی، (کہ وہ اس سال مکہ نہ جائیں) تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے اور کفار قریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۸۱۲ کا خلاصہ
یہ روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بیان سے حدیبیہ کے واقعے کو مختصر انداز میں بیان کرتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھ کر گئے تھے، مگر کفار قریش نے ہمیں بیت اللہ سے روک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کو نحر کیا اور سر منڈایا۔ اس حدیث کا موضوع حدیبیہ، عمرہ کا احرام، رکاوٹ، قربانی اور سر منڈانا ہے۔ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ جب بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک واضح عمل اختیار کیا۔ اس عمل کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بعد میں بھی دلیل کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ یہاں اصل زور سنت کی پیروی پر ہے، نہ کہ اپنی طرف سے نیا طریقہ بنانے پر۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام عمرہ کا احرام باندھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔
- کفار قریش نے بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی نحر کی اور سر منڈایا۔
- رکاوٹ کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل رہنما ہے۔
