صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۶ - حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام

عمرہ کا احرام: رکاوٹ ہو تو سنت کی پیروی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۸۰۶

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، حِينَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ ، قَالَ : " إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ ، صَنَعْتُ كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ " .

نافع روایت:

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فساد کے زمانہ میں عمرہ کرنے کے لیے جب مکہ جانے لگے تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے کعبہ شریف پہنچنے سے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم لوگوں نے کیا تھا، چنانچہ آپ نے بھی صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۸۰۶ کا خلاصہ

یہ روایت حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل کو بیان کرتی ہے۔ وہ فتنہ کے زمانے میں عمرہ کے لیے مکہ جا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر مجھے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا گیا تو میں وہی کروں گا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ پھر انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حدیبیہ کے سال عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع عمرہ کا احرام اور سنت کی پیروی ہے۔ یہاں ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی رائے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے تابع کر رہے ہیں۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ مشکل حالت میں بھی مسلمان کے لیے سب سے مضبوط راستہ سنت کی طرف رجوع ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکاوٹ کے اندیشے میں بھی سنت کو رہنما بنایا گیا۔
  • حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرہ کا احرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی وجہ سے باندھا۔
  • دینی معاملے میں اپنی رائے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل دیکھا جاتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں