صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۲ - پچھنا لگانے والے کی اجرت

پچھنا لگانے کی اجرت: محنت کا حق ادا کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا مِنْ خَرَاجِهِ " .

انس بن مالک روایت:

ابوطیبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور (بطور اجرت) انہیں دینے کے لیے حکم فرمایا۔ اور ان کے مالک کو فرمایا کہ ان کے خراج میں کمی کر دیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ ابو طیبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنا لگایا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک صاع کھجور بطور اجرت دینے کا حکم فرمایا۔ ساتھ ہی ان کے مالکوں کو فرمایا کہ ان کے خراج میں کمی کر دیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع پچھنا لگانے کی اجرت اور محنت کرنے والے کے حق سے متعلق ہے۔ یہاں بہت سادہ سبق ملتا ہے کہ خدمت لینے کے بعد اجرت ادا کی جائے۔ اس میں مزدور کے ساتھ آسانی اور نرمی کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ حجامہ کی اجرت، پچھنا لگانا، مزدور کا حق اور اجرت کی ادائیگی جیسے الفاظ اس حدیث کے قریب ترین موضوعات ہیں۔ متن سے یہی بات واضح ہے کہ کام کرنے والے کو محروم نہیں رکھا گیا بلکہ اس کی مدد بھی کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خدمت یا علاج کا کام لینے کے بعد اجرت دی جا سکتی ہے۔
  • محنت کرنے والے کا حق ادا کرنا اچھا عمل ہے۔
  • کمزور یا ماتحت شخص کے بوجھ میں نرمی کی جا سکتی ہے۔
  • معاملات میں انصاف کے ساتھ نرمی بھی اہم ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں