صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۳ - حجامہ کی اجرت کا بیان
حجامہ کی اجرت حدیث: اگر حرام ہوتی تو آپ نہ دیتے
صحیح بخاری : ۲۱۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۱۰۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَعْطَى الَّذِي حَجَمَهُ ، وَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُعْطِهِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور جس نے پچھنا لگایا اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجرت بھی دی، اگر اس کی اجرت حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ہرگز نہ دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۱۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور جس نے پچھنا لگایا اسے اجرت بھی دی۔ پھر صاف فرمایا گیا کہ اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ہرگز نہ دیتے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع حجامہ کی اجرت ہے۔ اس میں بات بہت واضح ہے کہ جس کام کی خدمت لی گئی، اس کا حق ادا کیا گیا۔ اس حدیث سے محنت کی اجرت، حجامہ، پچھنا لگانا اور علاج کے بدلے اجرت جیسے مسائل کا بنیادی اشارہ ملتا ہے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، بلکہ متن خود ایک مضبوط بات بتاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کر کے اجرت دی۔ اس لیے اس حدیث کی تشریح میں اصل توجہ اسی بات پر رہنی چاہیے کہ جائز خدمت کے بدلے حق ادا کیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوانے والے کو اجرت دی۔
- حدیث کے الفاظ کے مطابق اگر یہ اجرت حرام ہوتی تو آپ نہ دیتے۔
- کام کرنے والے کو اس کی محنت کا حق دینا چاہیے۔
- دینی سمجھ میں نص کے صاف الفاظ کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
