صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۹ - حجامہ کی اجرت میں کراہت نہیں
حجامہ کی اجرت حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم نے حجام کو معاوضہ دیا
صحیح بخاری : ۲۲۷۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۹
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ أَجْرَهُ ، وَلَوْ عَلِمَ كَرَاهِيَةً لَمْ يُعْطِهِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اجرت بھی دی، اگر اس میں کوئی کراہت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے کو دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور حجام کو اس کی اجرت دی۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ اگر اس میں کوئی کراہت ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اجرت نہ دیتے۔ اس حدیث سے حجامہ کی اجرت کے بارے میں ایک سادہ بات سمجھ آتی ہے کہ جس شخص نے خدمت انجام دی، اسے اس کا معاوضہ دیا گیا۔ حدیث کا دائرہ اسی بیان تک ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجامہ کروایا اور اجرت دی۔ اس سے مسلمان کو معاملات میں صاف دلی، مزدور کے حق اور علاج کرنے والے کی خدمت کا احترام سیکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجامہ کرنے والے کو اجرت دینا اس روایت میں ثابت ہے۔
- کام کرنے والے کی محنت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے معاملے کی عملی رہنمائی ملتی ہے۔
- اجرت کا معاملہ صاف اور ادا شدہ ہونا چاہیے۔
