صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۸ - پچھنا لگوانا اور اجرت دینا
پچھنا لگوانے کی حدیث: حجام کو اجرت دینا درست ہے
صحیح بخاری : ۲۲۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " احْتَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْطَى الْحَجَّامَ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ اگر پچھنا لگوانا ناجائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ پچھنا لگواتے نہ اجرت دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا اور پچھنا لگانے والے کو اجرت بھی دی۔ روایت میں یہ بات بھی آتی ہے کہ اگر پچھنا لگوانا ناجائز ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ پچھنا لگواتے اور نہ اجرت دیتے۔ اس حدیث کا اصل موضوع حجامہ اور حجام کی اجرت ہے۔ علاج یا خدمت کے بعد کام کرنے والے کو اس کا حق دینا دین کے مزاج کے مطابق ہے۔ یہاں بات بہت واضح ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حجامہ کروایا اور معاوضہ دیا۔ اس لیے اس روایت میں اجرت کی ادائیگی اور کام کرنے والے کے حق کا عملی نمونہ موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حجامہ کروانے کا عمل اس حدیث میں ثابت ہے۔
- حجام کو اس کی خدمت کے بدلے اجرت دی گئی۔
- کام لینے کے بعد معاوضہ دینا عدل ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل مزدور کے حق کی اہمیت بتاتا ہے۔
