صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۰ - امانت داری
امانت دار خزانچی کی حدیث: حکم کے مطابق خوش دلی سے دینا
صحیح بخاری : ۲۲۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۶۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْخَازِنُ الْأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے، اس کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ (صدقہ ادا کر دے) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں امانت دار خزانچی کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ خزانچی جو امانت دار ہو، جسے جو حکم دیا جائے اسے دل کی خوشی کے ساتھ ادا کر دے، وہ بھی صدقہ کرنے والوں میں سے ایک ہے۔ اس کا مرکزی موضوع امانت داری، ذمہ داری اور خوش دلی سے ادائیگی ہے۔ حدیث میں خزانچی کا کام صرف مال سنبھالنا نہیں بتایا گیا بلکہ حکم کے مطابق دینا اور دل کی فراخی بھی ذکر ہوئی ہے۔ اس سے سمجھ آتا ہے کہ کسی کے مال یا ذمہ داری کا امین بننا معمولی بات نہیں۔ جب آدمی صحیح جگہ، صحیح حکم کے مطابق اور اچھی نیت کے ساتھ ادا کرتا ہے تو وہ خیر کے کام میں شریک ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امانت دار شخص حکم کے مطابق مال ادا کرتا ہے۔
- خوش دلی سے ذمہ داری نبھانا قابل قدر عمل ہے۔
- خزانچی صرف محافظ نہیں، درست ادائیگی کا ذمہ دار بھی ہے۔
- حدیث میں اسے صدقہ کرنے والوں میں سے ایک بتایا گیا ہے۔
