صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۷ - حجام کو اجرت دینا

حجام کی اجرت حدیث: پچھنا لگانے والے کا حق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ أَوْ صَاعَيْنِ مِنْ طَعَامٍ ، وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ فَخَفَّفَ عَنْ غَلَّتِهِ أَوْ ضَرِيبَتِهِ " .

انس بن مالک روایت:

ابوطیبہ حجام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پچھنا لگایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجرت میں ایک صاع یا دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا اور ان کے مالکوں سے سفارش کی کہ جو محصول اس پر مقرر ہے اس میں کچھ کمی کر دیں۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابو طیبہ حجام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پچھنا لگایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک صاع یا دو صاع غلہ دینے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مالکوں سے بات کی کہ جو محصول یا مقررہ رقم ان پر تھی، اس میں کچھ کمی کر دیں۔ اس حدیث میں حجامہ، اجرت اور مزدور پر نرمی کا پہلو سامنے آتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدمت لینے کے بعد اجرت کا خیال رکھا، اور ایک کام کرنے والے آدمی کے بوجھ کو کم کرنے کی سفارش بھی فرمائی۔ یہ مزدور کے حق اور آسانی پیدا کرنے کی خوبصورت تعلیم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خدمت لینے کے بعد اجرت ادا کرنا چاہیے۔
  • حجامہ کرنے والے کو اجرت دی گئی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
  • کام کرنے والے پر بوجھ کم کرنے کی سفارش اچھی بات ہے۔
  • معاملات میں نرمی اور انصاف دونوں ضروری ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں