صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۰ - کسی کی مزدوری میں ظلم نہ کرنا

مزدوری میں ظلم نہ کرنا: نبی صلى الله عليه وسلم کا عملی نمونہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۸۰

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَحْتَجِمُ ، وَلَمْ يَكُنْ يَظْلِمُ أَحَدًا أَجْرَهُ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنا لگوایا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں کسی پر ظلم نہیں کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۲۸۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پچھنا لگواتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی مزدوری کے معاملے میں ظلم نہیں کرتے تھے۔ یہ مختصر حدیث بہت واضح پیغام دیتی ہے۔ خدمت لینے کے بعد اجرت کے معاملے میں کمی، ٹال مٹول یا ناانصافی دین کے مزاج کے خلاف ہے۔ حجامہ کا ذکر یہاں ایک مثال کے طور پر آیا ہے، مگر اصل سبق مزدور کے حق اور عدل کا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یہ تھا کہ جس سے کام لیا، اس کے حق کا خیال رکھا۔ مسلمان کو بھی اپنے گھر، دکان، دفتر یا کاروبار میں اسی اصول کو اپنانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کی مزدوری میں ظلم نہیں کرنا چاہیے۔
  • خدمت لینے کے بعد حق ادا کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عملی طریقہ ہے۔
  • اجرت کے معاملے میں کمی یا ناانصافی سے بچنا چاہیے۔
  • عدل صرف بڑے فیصلوں میں نہیں، روزمرہ معاملات میں بھی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں