صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۰ - مزدور کی مزدوری نہ دینے کی وعید
مزدور کی مزدوری نہ دینے کی حدیث: حق مارنا سخت گناہ ہے
صحیح بخاری : ۲۲۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۰
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : " ثَلَاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت میں میں خود مدعی بنوں گا۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا، اور پھر وعدہ خلافی کی۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا، پھر کام تو اس سے پورا لیا، لیکن اس کی مزدوری نہ دی۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۰ کا خلاصہ
یہ حدیث مزدور کے حق کے بارے میں بہت صاف اور سخت تنبیہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان بیان کیا کہ تین لوگوں کا قیامت کے دن اللہ خود مدعی ہوگا۔ ایک وہ جس نے اللہ کے نام پر عہد کیا پھر وعدہ توڑ دیا۔ دوسرا وہ جس نے آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی۔ تیسرا وہ جس نے کسی مزدور کو کام پر رکھا، اس سے پورا کام لیا، مگر اس کی مزدوری نہ دی۔ اس حدیث میں مزدور کی اجرت روکنا معمولی بات نہیں بتایا گیا۔ کام پورا لینے کے بعد اجرت ادا نہ کرنا ظلم ہے۔ اس لیے مزدور کی مزدوری، اجیر کا حق اور وعدہ پورا کرنا دین کا اہم حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مزدور سے کام لینے کے بعد اس کی اجرت دینا ضروری ہے۔
- وعدہ خلافی اور حق مارنا سخت قابل گرفت کام ہے۔
- آزاد انسان کو بیچنا شدید ظلم ہے۔
- معاملات میں اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھنا چاہیے۔
