صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۱ - مسلمانوں کا نور قبول کرنا
مسلمانوں کی مثال: نور قبول کرنے والی حدیث
صحیح بخاری : ۲۲۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۷۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ ، وَالنَّصَارَى ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلًا ، يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ مَعْلُومٍ ، فَعَمِلُوا لَهُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ، فَقَالُوا : لَا حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِكَ الَّذِي شَرَطْتَ لَنَا ، وَمَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ ، فَقَالَ لَهُمْ : لَا تَفْعَلُوا أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلًا ، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ، وَاسْتَأْجَرَ أَجِيرَيْنِ بَعْدَهُمْ ، فَقَالَ لَهُمَا : أَكْمِلَا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمَا هَذَا ، وَلَكُمَا الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الْأَجْرِ ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينُ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، قَالَا : لَكَ مَا عَمِلْنَا بَاطِلٌ ، وَلَكَ الْأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا فِيهِ ، فَقَالَ لَهُمَا : أَكْمِلَا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمَا مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ ، فَأَبَيَا وَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ ، فَعَمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ كِلَيْهِمَا ، فَذَلِكَ مَثَلُهُمْ وَمَثَلُ مَا قَبِلُوا مِنْ هَذَا النُّورِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مسلمانوں کی اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند آدمیوں کو مزدور کیا کہ یہ سب اس کا ایک کام صبح سے رات تک مقررہ اجرت پر کریں۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے یہ کام دوپہر تک کیا۔ پھر کہنے لگے کہ ہمیں تمہاری اس مزدوری کی ضرورت نہیں ہے جو تم نے ہم سے طے کی ہے بلکہ جو کام ہم نے کر دیا وہ بھی غلط رہا۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ ایسا نہ کرو۔ اپنا کام پورا کر لو اور اپنی پوری مزدوری لے جاؤ، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور کام چھوڑ کر چلے گئے۔آخر اس نے دوسرے مزدور لگائے اور ان سے کہا کہ باقی دن پورا کر لو تو میں تمہیں وہی مزدوری دوں گا جو پہلے مزدوروں سے طے کی تھی۔ چنانچہ انہوں نے کام شروع کیا، لیکن عصر کی نماز کا وقت آیا تو انہوں نے بھی یہی کیا کہ ہم نے جو تمہارا کام کر دیا ہے وہ بالکل بیکار رہا۔ وہ مزدوری بھی تم اپنے ہی پاس رکھو جو تم نے ہم سے طے کی تھی۔اس شخص نے ان کو سمجھایا کہ اپنا باقی کام پورا کر لو۔ دن بھی اب تھوڑا ہی باقی رہ گیا ہے، لیکن وہ نہ مانے، آخر اس شخص نے دوسرے مزدور لگائے کہ یہ دن کا جو حصہ باقی رہ گیا ہے اس میں یہ کام کر دیں۔ چنانچہ ان لوگوں نے سورج غروب ہونے تک دن کے بقیہ حصہ میں کام پورا کیا اور پہلے اور دوسرے مزدوروں کی مزدوری بھی سب ان ہی کو ملی۔ تو مسلمانوں کی اور اس نور کی جس کو انہوں نے قبول کیا، یہی مثال ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں، یہود اور نصاریٰ کی مثال ایک کام کے ذریعے سمجھائی۔ ایک شخص نے کچھ لوگوں کو صبح سے رات تک مقررہ اجرت پر کام کے لیے رکھا۔ پہلے لوگوں نے دوپہر تک کام کیا مگر اجرت لینے سے انکار کر کے کام چھوڑ دیا۔ پھر دوسرے آئے، انہوں نے عصر تک کام کیا اور وہ بھی چھوڑ گئے۔ آخر میں تیسرے گروہ نے دن کے باقی حصے میں کام کیا اور غروب تک اسے پورا کیا، پھر پہلے دونوں گروہوں کی مزدوری بھی انہیں ملی۔ حدیث کے آخر میں بتایا گیا کہ مسلمانوں اور اس نور کی مثال یہی ہے جسے انہوں نے قبول کیا۔ اس میں کام پورا کرنے اور ہدایت قبول کرنے کا پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کام کو آخر تک پورا کرنا اچھی بات ہے۔
- نور یعنی ہدایت کو قبول کرنا بڑی نعمت ہے۔
- طے شدہ کام چھوڑ دینا نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
- مسلمانوں کو اللہ کی عطا پر شکر کرنا چاہیے۔
