صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۹ - حق اور فضل کی مثال
حق پورا اور فضل زائد: امت محمدیہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۲۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۲۶۹
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا مَثَلُكُمْ ، وَالْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالًا ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ فَعَمِلَتْ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ، ثُمَّ عَمِلَتْ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ، ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، فَغَضِبَتْ الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، وَقَالُوا : نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلًا وَأَقَلُّ عَطَاءً ، قَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا ، قَالُوا : لَا ، فَقَالَ : فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ .
عبداللہ بن عمر بن خطاب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک میری مزدوری کون کرے گا؟ پس یہود نے ایک قیراط پر یہ مزدوری کی۔ پھر نصاریٰ نے بھی ایک قیراط پر کام کیا۔ پھر تم لوگوں نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر کام کیا۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے کہ ہم نے تو زیادہ کام کیا اور مزدوری ہم کو کم ملی۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ کیا میں نے تمہارا حق ذرہ برابر بھی مارا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ پھر اس شخص نے کہا کہ یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں زیادہ دیتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۲۲۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود، نصاریٰ اور مسلمانوں کی مثال مزدوروں کے ذریعے بیان فرمائی۔ پہلے گروہ نے ایک قیراط پر کام کیا، دوسرے نے بھی ایک قیراط پر، پھر مسلمانوں نے عصر سے مغرب تک دو قیراط پر کام کیا۔ یہود و نصاریٰ نے کہا کہ ہم نے زیادہ کام کیا مگر مزدوری کم ملی۔ جواب میں پوچھا گیا کہ کیا تمہارے حق میں ذرا بھی کمی کی گئی؟ انہوں نے کہا نہیں۔ پھر بتایا گیا کہ یہ میرا فضل ہے، جسے چاہوں دوں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انصاف یہ ہے کہ طے شدہ حق پورا دیا جائے، اور فضل اللہ کی عطا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طے شدہ حق پورا ملنا عدل ہے۔
- زائد عطا اللہ کے فضل میں شامل ہے۔
- دوسرے کو ملنے والی نعمت پر بے جا اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔
- مسلمان کو اللہ کے فضل پر شکر کا مزاج رکھنا چاہیے۔
